حدیث نمبر: 42
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ قَالَ: نَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: نَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ قَالَ: خَلَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَخْتَلِفُ هَذِهِ الْأُمَّةُ وَنَبِيُّهَا وَاحِدٌ، وَكِتَابُهَا وَاحِدٌ، وَقِبْلَتُهَا ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ، فَقَرَأْنَاهُ، وَعَلِمْنَا فِيمَ أُنْزِلَ ! وَإِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَنَا أَقْوَامٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ وَلَا يَعْرِفُونَ فِيمَ نَزَلَ، فَيَكُونُ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ . فَإِذَا كَانَ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ اخْتَلَفُوا، فَإِذَا اخْتَلَفُوا اقْتَتَلُوا ! فَزَبَرَهُ عُمَرُ، وَانْتَهَرَهُ . فَانْصَرَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ دَعَاهُ بَعْدُ، فَعَرَفَ الَّذِي قَالَ . ثُمَّ قَالَ: (إِيهِ) أَعِدْ عَلَيَّ .
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن تنہائی میں خود سے گفتگو کر رہے تھے، تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور پوچھا: ”یہ امت اختلاف کیسے کرے گی، جب کہ اس کا نبی ایک ہے، اس کی کتاب ایک ہے اور اس کا قبلہ بھی ایک ہے؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ہم پر قرآن نازل ہوا، ہم نے اسے پڑھا اور جانا کہ یہ کن امور کے بارے میں نازل ہوا ہے، لیکن ہمارے بعد ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن تو پڑھیں گی مگر نہیں جانیں گی کہ وہ کن اسباب کے تحت نازل ہوا ہے، تو ہر قوم اس میں اپنی اپنی رائے قائم کرے گی، اور جب ہر قوم کی ایک الگ رائے ہوگی، تو وہ باہم اختلاف کریں گے، اور جب اختلاف بڑھ جائے گا تو وہ آپس میں قتال کریں گے۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور سخت لہجے میں بات کی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما واپس چلے گئے۔ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ بلایا، ان کی بات کو سمجھا اور فرمایا: ”اچھا، وہی بات دوبارہ دہرا دو۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 42
درجۂ حدیث محدثین: الحديث صحيح لغيره كما سيأتي، وأما هذا الإسناد فرجاله ثقات، إلا أنه ضعيف للانقطاع بين التيمي وعمر بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 6357، 6358، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 42، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20368»