حدیث نمبر: 4145
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ صِفِّينَ وَكَانَ مَعَ عَلِيٍّ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَجْمِعُوا رَأْيَكُمْ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرَ أَمْرِكُمْ هَذَا، فَاتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ» وَغَمَدَ سَيْفَهُ، وَانْصَرَفَ إِلَى أَهْلِهِ
مظاہر امیر خان

سیدنا سهل بن حنیف رضی اللہ عنہ صفین کے دن فرماتے ہیں: ”اے لوگو! اپنی رائے پر جمع ہو جاؤ، اللہ کی قسم! ہم نے اپنی تلواریں کندھوں پر رکھ کر کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کیا جسے ہم پہچانتے نہ ہوں، لہٰذا اپنی رائے پر شک کرو۔“ پھر تلوار نیام میں رکھ کر اپنے گھر چلے گئے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4145
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3181، 3182، 4189، 4844، 7308، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1785، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11440، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2969، والحميدي فى «مسنده» برقم: 408، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38002، 39026، 39069»
قال ابن حجر: صالح بن موسى متروک، أعمش کی عن سے روایت بھی ضعف کا سبب ہے۔