سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ ثَقِيفًا كَانَتْ حُلَفَاءَ لِبَنِي عَقِيلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَصَابَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ وَمَعَهُ نَاقَةٌ لَهُ، فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ بِمَ أَخَذْتَنِي وَأَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ؟ وَكَانَتِ النَّاقَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا سَبَقَتْ لَمْ تُمْنَعْ مِنْ حَوْضٍ شَرَعَتْ فِيهِ أَوْ كَلَأٍ رَتَعَتْ فِيهِ، قَالَ: " بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ، وَكَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِهِ وَهُوَ مَحْبُوسٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ: «لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ كُنْتَ أَنْتَ قَدْ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ» ثُمَّ مَرَّ بِهِ أُخْرَى، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي، قَالَ: «تِلْكَ حَاجَتُكَ» ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَفْدِيَهُ فَفَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمْسَكَ النَّاقَةَ لِنَفْسِهِ، وَهِيَ الْعَضْبَاءُ، فَأَغَارَ عَدُوٌّ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَأَصَابُوهَا، وَكَانَ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ لَيْلًا، وَكَانَتْ عِنْدَ الْمُشْرِكِينَ امْرَأَةٌ سَبَوْهَا، فَانْطَلَقَتْ فَأَتَتِ النَّعَمَ، فَجَعَلَتْ لَا تَأْتِي إِلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا، فَأَتَتْهَا فَلَمْ تَرْغُ، فَاسْتَوَتْ عَلَيْهَا فَأَرْسَلَتْهَا، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ قَالَ النَّاسُ: الْعَضْبَاءُ الْعَضْبَاءُ، قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَنْجَانِي اللَّهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَنَّهَا، فَأَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «بِئْسَ مَا جَزَيْتِهَا، لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بنو ثقیف کے ساتھ بنو عقیل کا جاہلیت میں حلف تھا، مسلمانوں نے ایک شخص کو اس کی اونٹنی کے ساتھ پکڑ لیا، اس نے کہا: ”یا محمد! تم نے مجھے اور حاجیوں کی فاتح اونٹنی کو کیوں پکڑا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے حلیف ثقیف کی خیانت کے بدلے۔“ پھر وہ شخص مسلمان قیدیوں کے بدلے آزاد کیا گیا، اور اونٹنی (عضباء) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے رکھ لی، پھر وہ اونٹنی دشمن نے چرا لی، اور ایک قیدی عورت اس پر سوار ہو کر مدینہ آگئی۔ جب اس نے نذر کی کہ اگر بچ گئی تو اونٹنی کو ذبح کرے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برا بدلہ دیا، نذر میں گناہ اور ملکیت نہ رکھنے میں وفا جائز نہیں۔“