سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حدیث نمبر: 4121
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَى كُلِّ مَنْ رَأَى لِي سَمْعًا وَطَاعَةً إِلَّا كَفَّ يَدَهُ وَسِلَاحَهُ، إِنَّ أَفْضَلَكُمْ عَنَّا مَنْ كَفَّ سِلَاحَهُ، وَيَدَهُ، قُمْ يَا ابْنَ عُمَرَ فَاحْجِزْ بَيْنَ النَّاسِ " فَقَامَ ابْنُ عُمَرَ، وَقَامَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ، وَبَنِي نُعَيْمٍ، وَبَنِي مُطِيعٍ فَفَتَحُوا الْبَابَ فَخَرَجَ، فَدَخَلَ النَّاسُ فَقَتَلُوا عُثْمَانَمظاہر امیر خان
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ہر اس شخص کو قسم دیتا ہوں جو میری سمع و طاعت رکھتا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اور ہتھیار روکے رکھے۔ تم میں بہترین وہ ہے جو ہاتھ اور ہتھیار روک لے۔“ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرمایا: ”لوگوں کے درمیان حائل ہو جاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے دروازہ کھولا اور لوگ اندر گھس آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔