سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ الْمِصْرِيِّينَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَلَمَّا ضَرَبُوهُ خَرَجْتُ أَشْتَدُّ قَدْ مَلَأْتُ فُرُوجِي عَدْوًا حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي نَحْوٍ مِنْ عَشْرَةٍ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَ لِي: «مَا وَرَاءَكَ؟» فَقُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ قَدْ فُرِغَ مِنَ الرَّجُلِ، فَقَالَ: «تَبًّا لَكُمْ آخِرَ الدَّهْرِ» وَإِذَا هُوَ عَلِيٌّمظاہر امیر خان
سیدنا ابوجعفر انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں مصریوں کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب انہیں مارا تو میں بھاگا۔ مسجد پہنچا تو ایک آدمی بیٹھا تھا، سیاہ عمامہ پہنے، دس افراد کے درمیان۔ اس نے پوچھا: کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! معاملہ ختم ہو گیا۔“ اس نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہو آخر زمانے والو!“ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔