حدیث نمبر: 4113
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ يَوْمَ الدَّارِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا ضِرَابٌ؟ فَقَالَ لِي: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَقْتُلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَإِيَّايَ مَعَهُمْ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتَ رَجُلًا وَاحِدًا، لَكَأَنَّمَا قَتَلْتَ النَّاسَ جَمِيعًا» فَرَجَعْتُ فَلَمْ أُقَاتِلْ
مظاہر امیر خان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں محاصرہ کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ عرض کی: یا امیرالمومنین! کیا لڑائی نہیں کریں گے؟“ فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کیا تمہیں پسند ہے کہ تم تمام لوگوں کو اور مجھے قتل کر دو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”اگر ایک آدمی کو قتل کرو گے تو گویا سب کو قتل کیا۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4113
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إسناده ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2936، 2937، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4382»
ثقہ، مدلس (أعمش کا عنعنہ ہے)