حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: بَعَثَنَا عُثْمَانُ فِي خَمْسِينَ رَاكِبًا، وَأَمِيرُنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى ذِي خَشَبٍ اسْتَقْبَلَنَا رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ مُصْحَفٌ، مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ، تَذْرِفُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا يَأْمُرُنَا أَنْ نَضْرِبَ بِهَذَا - يَعْنِي السَّيْفَ - عَلَى مَا فِي هَذَا، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: «اجْلِسْ فَنَحْنُ قَدْ ضَرَبْنَا بِهَذَا عَلَى مَا فِي هَذَا قَبْلَكَ أَوْ قَبْلَ أَنْ تُولَدَ» قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُمْ حَتَّى رَجَعُوا قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ وَجَدُوا كِتَابًا إِلَى ابْنِ سَعْدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
مظاہر امیر خان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پچاس سواروں کے ساتھ بھیجا، امیر محمد بن مسلمہ تھے۔ ذی خشب پہنچے تو ایک شخص ملا، گردن میں قرآن لٹکا تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس نے کہا: ”ہم سے کہا جا رہا ہے تلوار سے قرآن پر حملہ کرو۔“ محمد نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، ہم تم سے پہلے قرآن کے لیے تلوار اٹھا چکے۔“ پھر وہ انہیں باتوں سے واپس لے گیا۔ جابر نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ابن سعد کے نام خط ملا۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 5895، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2935»