حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ الطَّائِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: جَاءَ وَفْدُ أَهْلِ الرِّدَّةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ يَسْأَلُونَ أَبَا بَكْرٍ الصُّلْحَ، فَخَيَّرَهُمْ، إِمَّا حَرْبٌ مُجْلِيَةٌ، وَإِمَّا سِلْمٌ مُخْزِيَةٌ، قَالُوا: أَمَّا حَرْبٌ مُجْلِيَةٌ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا سِلْمٌ مُخْزِيَةٌ؟ قَالَ: «تَدُونَ قَتْلَانَا، وَلَا نُودِي قَتْلَاكُمْ، وَتَشْهَدُونَ عَلَى قَتْلَاكُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ، وَتَرُدُّونَ إِلَيْنَا مَنْ أَخَذْتُمْ مِنَّا، وَلَا نَرُدُّ إِلَيْكُمْ مَا أَخَذْنَا مِنْكُمْ، وَنَنْزِعُ مِنْكُمُ الْحَلْقَةَ وَالْكُرَاعَ، وَتُتْرَكُونَ تَتَّبِعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ وَالْمُؤْمِنِينَ رَأْيًا يَعْذِرُونَكُمْ عَلَيْهِ» فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا مَا قَدْ قُلْتَ فَكَمَا قُلْتَ، لَكِنْ قَتْلَانَا قُتِلُوا فِي اللَّهِ، أُجُورُهُمْ عَلَى اللَّهِ , لَا دِيَةَ لَهُمْ
مظاہر امیر خان

طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ارتداد کرنے والے بنو اسد اور غطفان کے وفد نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کی درخواست کی۔ آپ نے کہا: ”یا تو عبرتناک جنگ یا ذلت والی صلح۔“ انہوں نے صلح کی شرائط پوچھیں۔ فرمایا: ”ہمارے مقتولین کی دیت نہ لو، اپنے مقتولین کو دوزخی مانو، ہمارے قیدی واپس کرو، اپنے قیدی نہ لو، ہتھیار چھوڑو اور اونٹوں کے پیچھے لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ خلیفہ کو تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ دکھائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمارے مقتولین اللہ کے لیے شہید ہوئے، ان کی کوئی دیت نہیں۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4110
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2934، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1953»