حدیث نمبر: 4102
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُضَيْفٍ الْكِنْدِيِّ، أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ، وَخُفَّانِ رَقِيقَانِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَّا الْقَبَاءُ فَإِنَّ الرَّجُلَ يَشُدُّهُ عَلَيْهِ فَيَضُمُّ ثِيَابَهُ، وَأَمَّا الْخِفَافُ الرِّقَاقُ أَثْبَتُ فِي الرُّكَبِ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ
مظاہر امیر خان

عیاض بن غطیف کندی سے روایت ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر باریک موزے اور قبا پہننے پر اعتراض کیا۔ میں نے کہا: ”قبا کپڑے سنبھالنے کے لیے ہے اور باریک موزے گھٹنے مضبوط کرتے ہیں۔“ تو آپ نے اجازت دے دی۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4102
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إسناده ضعیف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
إسماعيل بن عياش یہاں غیر شامی (کوفی) راوی سے روایت کر رہے ہیں جو کہ ضعف کا سبب ہوتا ہے۔