سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حدیث نمبر: 4078
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بِالْجِعْرَانَةِ قَسْمًا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: «وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ؟» فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: لَا، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ يَقْرَأُونَ الْقُرْآنَ مَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ میں مال تقسیم کیا۔ ایک آدمی آیا اور کہا: ”اے محمد انصاف کرو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! اگر میں انصاف نہ کروں تو کون کرے گا؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس جیسے لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“