سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حدیث نمبر: 4073
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اشْحَذْ سَيْفَكَ , فَقِيلَ لَهُ: وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَدْ قُذِفَ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ، وَنَزَعَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمُ الرُّعْبَ» قَالُوا: وَبِمَ ذَاكَ قَالَ: «بِحُبِّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتِكُمُ الْمَوْتَ، وَطُوبَى لِمَنْ خَرَسَ لِسَانُهُ، وَبَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ، وَوَسِعَهُ بَيْتُهُ»مظاہر امیر خان
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے کہا: ”اپنی تلوار کو تیز کرو۔“ پوچھا گیا: کیوں اے ابو عبداللہ؟ فرمایا: ”تمہارے دلوں میں بزدلی ڈال دی گئی ہے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے خوف نکال لیا گیا ہے۔“ کہا: وہ کیوں؟ فرمایا: ”دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے۔“ خوشخبری ہے اس کے لیے جس کی زبان خاموش ہو، اپنی خطاؤں پر روئے اور جسے اس کا گھر کافی ہو۔