سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ فِي حَوَائِجِهِمْ كَمَا يَتَكَلَّمُ أَهْلُ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ فِي حَوَائِجِهِمْ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ } .مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ نماز میں اپنی ضروریات کے متعلق گفتگو کرتے تھے، جیسے اہل کتاب اپنی نماز میں اپنی ضروریات کے بارے میں بات کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ (اور اللہ کے لیے ادب سے کھڑے ہو جاؤ)۔