سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَّرَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ تَقُولُونَ فِي أُسَامَةَ أَنَّ أُسَامَةَ حَدَثُ السِّنِّ، وَإِنْ تَقُولُوا فَقَدْ قُلْتُمْ لِأَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُ لَخَلِيقٌ لِلْإِمْرَةِ» قَالَ بُكَيْرٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّ عَبِيدَةَ بْنَ سُفْيَانَ قَالَ: فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ هَذِهِ إِلَى الْيَوْمِ قَالَ بُكَيْرٌ: وَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ قَالَ: " أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَى جَيْشٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْرِقَ قَرْيَةَ يُبْنَا، فَمَضَى أَوَّلُ الْجَيْشِ وَجَعَلَ أُسَامَةُ يَتَرَدَّدُ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ أُسَامَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: مَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: «تَمْضِي عَلَى أَمْرِكَ الَّذِي أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَزِيدُ فِيهِ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ» فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ أُسَامَةَ وَمَعَهُ حَدُّ النَّاسِ فَتَرْتَدُّ هَذِهِ الْأَعْرَابُ فَتَمِيلُ عَلَى ثَقَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ الذِّئَابَ وَالْكِلَابَ تَنْهَشُنِي بِهَا مَا رَدَدْتُ أَمْرًا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، امْضِ، فَإِنَّ اللَّهَ سِيُعِينُنَا، وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ أُسَامَةُ: فَخَرَجْتُ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَأَلَنِي أَنْ آذَنَ لَكَ فَفَعَلْتُ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْضِيَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَحِمَكَ اللَّهُحضرت بکیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو سپہ سالار بنایا تو لوگوں نے اعتراض کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسامہ کے کم عمر ہونے پر بات کرتے ہو، تم نے اس کے والد پر بھی اسی طرح بات کی تھی، اللہ کی قسم! وہ امارت کے لائق ہے۔“ حضرت بکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے خبر ملی کہ حضرت عبیدہ بن سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے امید ہے یہ فیصلہ آج تک قائم ہے۔“ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر پر امیر بنایا اور حکم دیا کہ یبنا گاؤں کو جلا دیں۔ جب لشکر روانہ ہوا تو اسامہ کچھ ٹھہرے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ پھر اسامہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”جس چیز کا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اس پر عمل کرو، نہ میں اس میں کوئی اضافہ کروں گا نہ کمی۔“ لوگوں نے کہا: ”اگر آپ اسامہ کو بھیج دیں گے اور قریبی لوگوں کو ساتھ لے جائیں گے تو بدوی عرب مرتد ہو جائیں گے اور مدینہ پر حملہ کر دیں گے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر درندے مجھے کھا جائیں تب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو واپس نہ کروں گا۔“ جاؤ، اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔ لیکن اگر تم چاہو تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ساتھ رکھ لو۔ اسامہ نے کہا: ”میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں اجازت دی۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تم پر رحم کرے۔“