سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ اسْتَحْيَا الْمُسْلِمُونَ مِنْ عَوْرَاتِ إِخْوَانِهِمْ وَأَلْقَوْهُمْ فِي قَلِيبٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «أَيْ فُلَانُ أَيْ فُلَانُ أَلَمْ تَجِدُوا اللَّهَ مَلِيًّا بِمَا وَعَدَكُمْ؟ أَيْ فُلَانُ أَيْ فُلَانُ - يُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ - أَلَمْ تَجِدُوا اللَّهَ مَلِيًّا بِمَا وَعَدَكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَسْمَعُونَ؟ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا تَسْمَعُونَ»سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کے ستر پوشی کے احساس سے انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر آ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے فلاں! اے فلاں! کیا تم نے اللہ کو اپنے وعدے میں سچا نہ پایا؟ اے فلاں! اے فلاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کے نام لے کر پکارتے تھے، پھر فرمایا: ”کیا تم نے اللہ کو اپنے وعدے میں سچا نہ پایا؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا یہ سنتے ہیں؟“ فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اسی طرح سنتے ہیں جیسے تم سنتے ہو۔“