حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ بَدْرٍ عَلَى فَرَسٍ حَمْرَاءَ، مَعْقُودَ النَّاصِيَةِ قَدْ عَصَبَ ثَنِيَّتَهُ الْغُبَارُ، عَلَيْهِ دِرْعُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُفَارِقَ حَتَّى تَرْضَى، أَفَرَضِيتَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان

سیدنا عطیہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب بدر کی جنگ مکمل ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام سرخ گھوڑے پر سوار ہو کر، جس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے اور گرد و غبار نے ان کی دونوں کنپٹیاں ڈھانپ رکھی تھیں اور ان پر زرہ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد! اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس وقت تک آپ سے جدا نہ ہوں جب تک آپ راضی نہ ہو جائیں، کیا آپ راضی ہو گئے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4049
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
قال ابن حجر: أبي بكر بن أبي مريم ضعيف