سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2 باب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَتَكَاثُرِهِمْ وَنَظَرَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَقَلَّهُمْ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ: «اللَّهُمَّ لَا تُوَدِّعْ مِنِّي، اللَّهُمَّ لَا تَخْذُلْنِي، اللَّهُمَّ لَا تَتِرْنِي، اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ يَهْزِمْ هَذَا الْجَمْعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَذَا الْجَمْعَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَا تُعْبَدُ أَبَدًا» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَلْحَفْتَ وَاللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لَا يَتَوَدَّعُ مِنْكَ، وَلَا يَخْذُلُكَ، وَلَا يَتِرُكَ، وَلَيَنْصُرَنَّكَ عَلَى عَدُوِّكَ كَمَا وَعَدَكَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا، وَقَالَ: «رَأَيْتُ جِبْرِيلَ مُعْتَجِرًا مُتَدَلِّيًا مِنَ السَّمَاءِ مُعْتَجِرًا بِعُجْرَةِ الْقِتَالِ، عَلَى أَسْنَانِهِ قَتَرَةُ الْغُبَارِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ النَّصْرُ»سیدنا عبیداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کو دیکھا تو دو رکعت نماز پڑھی اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں جانب کھڑے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں فرمایا: ”اے اللہ! مجھے تنہا نہ چھوڑ، اے اللہ! مجھے رسوا نہ کر، اے اللہ! مجھے محروم نہ کر، اے اللہ! میں تجھ سے وہ وعدہ مانگتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا، اے اللہ! اگر یہ مشرکین کا لشکر مسلمانوں کے اس لشکر کو شکست دے دے تو پھر کبھی تیری عبادت نہ ہو گی۔“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز نہ چھوڑے گا، نہ آپ کو رسوا کرے گا اور نہ آپ کو محروم کرے گا اور ضرور آپ کو آپ کے دشمن پر فتح دے گا جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو کر لوٹے اور فرمایا: ”میں نے جبرائیل علیہ السلام کو آسمان سے اترتے دیکھا کہ انہوں نے جنگی لباس کے ساتھ اپنے سر کو لپیٹا ہوا تھا اور ان کے دانتوں پر گرد و غبار تھا، تب میں نے پہچان لیا کہ یہ نصرت ہے۔“