حدیث نمبر: 4020
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ لَقِيطٍ، حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ هَدَمٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: «مَا تَرَوْنَ فِي نَفَرٍ ثَلَاثَةٍ أَسْلَمُوا جَمِيعًا وَهَاجَرُوا جَمِيعًا، لَمْ يُحْدِثُوا فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا، قَتَلَ أَحَدَهُمُ الطَّاعُونُ، وَقَتَلَ الْآخَرَ الْبَطْنُ، وَقُتِلَ الْآخَرُ شَهِيدًا» قَالُوا: الشَّهِيدُ أَفْضَلُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَرُفَقَاءُ فِي الْآخِرَةِ كَمَا كَانُوا رُفَقَاءَ فِي الدُّنْيَا»
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تین آدمی جو اکٹھے اسلام لائے، اکٹھے ہجرت کی، نہ کوئی فتنہ کیا، ان میں ایک طاعون سے مرا، ایک پیٹ کے مرض سے اور ایک شہید ہوا۔“ لوگوں نے کہا: شہید افضل ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، وہ تینوں جنت میں اکٹھے ہوں گے جیسے دنیا میں اکٹھے تھے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4020
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
اتفاقی طور پر محدثین نے ربیعة بن لقیط کو ضعیف اور متروک قرار دیا ہے۔