حدیث نمبر: 3984
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي وَاحِدٍ مِنْهُنَّ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهُورِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ سَاعَةً قَطُّ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ عَبْدًا لَنَا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحَاصِرٌ ثَقِيفًا فَأَسْلَمَ، فَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُ عَلَيْنَا " قَالَ: «هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِهِ»، فَلَمْ يَرُدَّهُ عَلَيْنَا
مظاہر امیر خان

ایک ثقفی شخص نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی میں بھی نرمی نہ کی، ہم نے سرد موسم میں طہارت کی آسانی مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی، ہم نے دباء کے استعمال کی اجازت مانگی، نہ دی، ہم نے اپنے غلام ابو بکرہ کو واپس مانگا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محاصرہ کے دوران اسلام لایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا آزاد کردہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے۔“ اور اسے واپس نہ کیا۔

وضاحت:
رجل من ثقيف – مبہم (مجہول)، یعنی صحابی کا نام ذکر نہیں۔
◄ اگرچہ راوی مجہول ہے، لیکن چونکہ وہ صحابی ہے (صحابی کی جہالت مضر نہیں ہوتی)، لہٰذا یہ اثر قابلِ قبول ہے، کم از کم حسن درجہ پر۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3984
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2808، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17802، 19079، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 17803، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5367، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4273»