حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُؤْتَى بِالْغَنَائِمِ، فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنَ الْأَرْضِ صَغِيرَةً، فَأَمْسَكَهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا يَحِلُّ لِي مِنَ الْفَيْءِ قَدْرُ هَذِهِ الْوَبَرَةِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَإِنَّ الْخُمُسَ لَمَرْدُودٌ فِيكُمْ، فَاتَّقُوا اللَّهَ، وَأَدُّوا الْمِخْيَطَ وَالْخِيَاطَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْغُلُولَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ»
مظاہر امیر خان

مطلب بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن زمین پر پڑی ہوئی ایک چھوٹی سی اون اٹھائی اور دو انگلیوں کے درمیان پکڑ کر فرمایا: ”لوگو! اللہ کی قسم، میرے لیے مالِ غنیمت سے اس اون کے برابر بھی کچھ حلال نہیں، سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہارے درمیان واپس تقسیم کیا جاتا ہے، پس اللہ سے ڈرو اور سوئی اور دھاگہ ادا کرو، اور جان لو کہ خیانت قیامت کے دن رسوائی، آگ اور بدنامی ہے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3933
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
سند مرسل ہے، اور اصولاً ضعیف شمار ہوتی ہے، لیکن متن کے الفاظ بالکل وہی ہیں جو حدیث نمبر 2754 میں موجود صحیح/حسن سند کے ساتھ آ چکے ہیں۔