سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِسْمَةِ الْغَنَائِمِ باب: مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3932
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ (1)بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا ظَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ حُنَيْنٍ سَأَلَهُ النَّاسُ وَازْدَحَمُوا عَلَيْهِ حَتَّى أَلْجَوْهُ إِلَى شَجَرَةٍ عَلِقَتْ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: « عَلَامَ تَضْطَرُّونِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ ؟ حَتَّى عَلِقَتْ رِدَائِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ هَذَا الْوَادِي نَعَمًا كُلُّهُ لَقَسَمْتُهُ فِيكُمْ » .مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ حنین پر غالب آئے، تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال مانگنے لگے اور اس قدر ہجوم کیا کہ ایک درخت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھکیل دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر لٹک گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے اس درخت کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر یہ وادی سارا مال و دولت ہوتا تو میں تم میں تقسیم کر دیتا۔“