سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِسْمَةِ الْغَنَائِمِ باب: مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْصَرَفَ عَنْ حُنَيْنٍ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَأَخَذَتْ سَمُرَةٌ بِرِدَائِهِ، فَقَالَ: «رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، تَخَافُونَ عَلَيَّ الْبُخْلَ، وَاللَّهِ لَوْ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيَّ مِثْلَ سَمُرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا جَبَانًا، وَلَا كَذَّابًا» فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ قِسْمَةِ الْخُمُسِ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَحِلُّهُ مِخْيَطًا أَوْ خِيَاطًا، فَقَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّهُ عَارٌ وَشَنَارٌ وَنَارٌ»، ثُمَّ رَفَعَ وَبَرَةً مِنْ ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ: «مَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَلَا مِثْلُ هَذَا إِلَّا الْخُمُسُ وَهُوَ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ»عمرو بن دینار رحمہ اللہ اور عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے لوٹے، تو ایک بیری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری چادر واپس دو، کیا تم مجھ پر بخل کا خوف کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر اللہ مجھے تہامہ کے درختوں کے برابر مال دے دے تو میں تم میں تقسیم کر دوں گا، پھر نہ تم مجھے بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا۔“ پھر جب خمس کی تقسیم ہوئی تو ایک شخص آیا اور سوئی یا دھاگہ حلال کرنے کا مطالبہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن رسوائی، بدنامی اور آگ ہے۔“ پھر اپنے اونٹ کی پیٹھ سے ایک اون کا تنکا اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ نے جو مال تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے میرے لیے یہ تنکا بھی حلال نہیں، سوائے خمس کے اور وہ بھی تمہیں لوٹایا جاتا ہے۔“