سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا بِيعَ مِنْ مَتَاعِ الْعَدُوِّ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ باب: دشمن کے سامان تجارت، سونا اور چاندی کی خرید و فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا، يَقُولُ: «مَا قَطَعْتَ مِنْ شَجَرَةٍ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، وَعَمِلْتَ مِنْهُ قَدَحًا، أَوْ هِرَاوَةً، أَوْ وَتِدًا، أَوْ مِرْزَبَّةً فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا وَجَدْتَهُ فِي ذَلِكَ مَعْمُولًا فَأَدِّهِ إِلَى الْمَغْنَمِ»مظاہر امیر خان
مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دشمن کی سرزمین میں کسی درخت سے اگر تم نے برتن، لاٹھی، کیل یا ہتھوڑا بنایا تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور جو چیز پہلے سے بنی ہوئی ملے تو اسے مالِ غنیمت میں جمع کراؤ۔“