سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِبَاحَةِ الطَّعَامِ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ باب: دشمن کی سرزمین میں کھانے پینے کی اشیاء کو مباح سمجھنے کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كَانَ سَلْمَانُ إِذَا أَصَابَ شَاةً مِنَ الْمَغْنَمِ ذُبِحَتْ أَوْ ذَبَحُوهَا عَمَدَ إِلَى جِلْدِهَا، فَجَعَلَ مِنْهُ جِرَابًا، وَإِلَى شَعْرِهَا فَجَعَلَ مِنْهُ حَبْلًا، وَإِلَى لَحْمِهَا فَيُقَدِّدُهُ، فَيَنْتَفِعُ بِجِلْدِهَا، وَيَعْمِدُ إِلَى الْحَبْلِ فَيَنْظُرُ رَجُلًا مَعَهُ فَرَسٌ قَدْ صُرِعَ بِهِ فَيُعْطِيهِ، وَيَعْمِدُ إِلَى اللَّحْمِ فَيَأْكُلُهُ فِي الْأَيَّامِ، فَإِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ يَقُولُ: «إِنِّي أَسْتَغْنِي بِالْقَدِيدِ فِي الْأَيَّامِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْسِدَهُ، ثُمَّ أَحْتَاجُ إِلَى مَا فِي أَيْدِي النَّاسِ»عبداللہ بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے: سلمان رضی اللہ عنہ جب مالِ غنیمت میں کوئی بکری حاصل کرتے تو اسے ذبح کر لیتے یا ذبح کروا لیتے، پھر اس کی کھال سے تھیلا بنا لیتے، اس کے بالوں سے رسی تیار کر لیتے اور اس کے گوشت کو خشک کر کے (قدید) بنا لیتے۔ کھال سے خود فائدہ اٹھاتے، رسی کسی ایسے شخص کو دے دیتے جس کا گھوڑا گر گیا ہو، اور گوشت ایام میں کھانے کے لیے محفوظ رکھتے۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے: ”میرے لیے خشک گوشت کے ذریعے چند دنوں کا گزارہ کرنا اس سے بہتر ہے کہ اسے خراب کر بیٹھوں، پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے۔“