سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِبَاحَةِ الطَّعَامِ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ باب: دشمن کی سرزمین میں کھانے پینے کی اشیاء کو مباح سمجھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3917
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّعَامَ؟ قَالَ: «أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ»مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھانے کو خمس کیا جاتا تھا؟“ فرمایا: ”ہم خیبر میں کھانے پر پہنچے تو ہر آدمی اپنی ضرورت کے مطابق لیتا اور واپس چلا جاتا۔“