حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَكَانَ النَّفَرُ يُصِيبُونَ الْغَنَمَ الْعَظِيمَةَ، وَلَا يُصِيبُ الْآخَرُونَ إِلَّا الشَّاةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّكُمْ أَطْعَمْتُمْ إِخْوَانَكُمْ» فَرَمَيْنَا لَهُمْ بِشَاةٍ شَاةٍ، حَتَّى كَانَ الَّذِي مَعَهُمْ أَكْثَرَ مِنَ الَّذِي مَعَنَا قَالَ بَكْرٌ: وَمَا رَأَيْنَا أَحَدًا قَطُّ يَقْسِمُ الطَّعَامَ كُلَّهُ، وَلَا يُنْكِرُ أَخْذَهُ، وَلَكِنْ يُسْتَمْتَعُ بِهِ، وَلَا يُبَاعُ، فَأَمَّا غَيْرُ الطَّعَامِ مِنْ مَتَاعِ الْعَدُوِّ فَإِنَّهُ يُقَسَّمُ , قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ يَنْقَلِبُونَ بِالْمَشَاجِبِ، وَالْعِيدَانِ، لَا يُبَاعُ فِي قَسْمٍ لَنَا مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ
مظاہر امیر خان

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں لوگ بڑی بڑی بکریاں پاتے، بعض کو صرف ایک بکری ملتی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش تم اپنے بھائیوں کو کھانے میں شریک کرتے۔“ تو سب نے اپنی بکریاں ملائیں یہاں تک کہ جن کے پاس کم تھا، وہ زیادہ ہو گیا،، لیکن غیر طعام مال تقسیم کیا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3915
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف مرسل
تخریج حدیث «إسناده ضعيف مرسل، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
یہ ضعیف السند مرسل اثر ہے، کیونکہ اس میں مجہول راوی موجود ہے اور بکر بن سوادہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے واسطہ کئی راویوں کے ذریعے ہے جن میں مجہول بھی ہیں۔