حدیث نمبر: 3900
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا غَلَّ قَطِيفَةً مِنَ الْمَغْنَمِ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ فَعَلْتَ؟» قَالَ: لَا، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي أَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «احْفِرُوا هَاهُنَا»، فَحَفَرُوا، فَاسْتَخْرَجُوا الْقَطِيفَةَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لَهُ، فَقَالَ: «دَعُونَا مِنَ الْأَخِرِ»
مظاہر امیر خان

بدر کے دن ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ فلاں نے مالِ غنیمت سے ایک چادر چھپا لی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے ایسا کیا ہے؟“ اس نے انکار کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں کھودو۔“ چادر نکلی، تو صحابہ نے کہا: ”اس کے لیے دعا کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“

وضاحت:
حدیث حسن لغيره ہے، یعنی اگرچہ اس کی سند میں ضعف ہے (عمرو بن دینار صحابہ سے سماع نہیں کرتے، لیکن وہ صحابہ کے دور کے بعد زندہ تھے۔ روایت مرسل نہیں، بلکہ موقوف ہے (عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ انہوں نے سماع کیا)، لیکن اس کا مضمون صحیح العقل والمنطق ہے اور اسلامی اخلاق و نظام عدل کا واضح ترجمان ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيره
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيره، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2723، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9506»
حسن لغيره (ضعف في السند، لكن المضمون صحيح ومعروف)