سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ الْقَوْمِ يَتَنَازَعُونَ فِي الْقَتِيلِ لِمَنْ يَكُونُ سَلَبُهُ باب: لوگوں کے باہمی اختلاف کا بیان کہ مقتول دشمن کا سامانِ غنیمت (سلب) کس کے حصے میں آئے گا۔
حدیث نمبر: 3895
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ عَنِ الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ وَيُجْهِزُ عَلَيْهِ آخَرُ، قَالَ: «السَّلَبُ لِلَّذِي قَتَلَهُ إِذَا جَرَحَهُ، وَلَيْسَ لِلَّذِي أَجْهَزَ عَلَيْهِ شَيْءٍ، كَذَلِكَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَلَبِ أَبِي جَهْلٍ»مظاہر امیر خان
امام حریر بن عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر ایک شخص دشمن کو زخمی کرے اور دوسرا آ کر اسے مار ڈالے تو سلب پہلے زخمی کرنے والے کے لیے ہوگا، دوسرے کے لیے کچھ نہیں، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کے سلب میں دیا۔“