سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا يُخَمَّسُ فِي النَّفْلِ باب: نفل مال میں خمس نکالنے کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3890
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَأَفْلَحَنِي، وَخُطِبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، قَالَ مَعْنٌ: «لَا تَحِلُّ غَنِيمَةٌ حَتَّى تُقَسَّمَ، وَلَا يَحِلُّ نَفْلٌ حَتَّى يُقَسَّمَ عَلَى النَّاسِ حَفَّةً وَاحِدَةً، فَإِذَا قُسِمَ حَلَّ لِي أَنْ أُعْطِيَكَ»مظاہر امیر خان
سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں، میرے والد اور میرے دادا تینوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، میں نے آپ کے پاس مقدمہ لڑا، اور آپ نے میرے حق میں فیصلہ کیا، اور میرے نکاح کا معاملہ بھی آپ نے طے فرمایا۔ پھر کہا: ”مالِ غنیمت اور نفل اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک کہ اسے سب پر برابر تقسیم نہ کر دیا جائے۔“