سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا يُخَمَّسُ فِي النَّفْلِ باب: نفل مال میں خمس نکالنے کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3885
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ، وَيُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ بَارَزَ مُرْزُبَانَ الزَّأْرَةِ بِالْبَحْرَيْنِ فَطَعَنَهُ، فَدَقَّ صُلْبَهُ فَصَرَعَهُ، وَنَزَلَ إِلَيْهِ فَقَطَعَ يَدَهُ، وَأَخَذَ سِوَارَيْهِ وَسَلَبَهُ، فَلَمَّا صَلَّى عُمَرُ الظُّهْرَ أَتَى أَبَا طَلْحَةَ فِي دَارِهِ فَقَالَ: «إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا، فَأَنَا خَامِسُهُ، فَكَانَ أَوَّلُ سَلَبٍ خُمِّسَ فِي الْإِسْلَامِ سَلَبَ الْبَرَاءِ»مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے بحرین میں زأرہ کے مرزبان سے مقابلہ کیا، اسے نیزہ مار کر ریڑھ توڑ دی اور قتل کر دیا، پھر اس کے سوار اور مالِ غنیمت لے لیا۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور فرمایا: ”ہم سلب میں خمس (پانچواں حصہ) نہیں نکالا کرتے تھے، لیکن براء کا سلب اتنا قیمتی ہے کہ میں اسے خمس کر رہا ہوں۔“ چنانچہ اسلام میں سب سے پہلے براء رضی اللہ عنہ کا سلب خمس کیا گیا۔