سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ اور خاص مال کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3857
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَلْقَيْنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحَاصِرٌ وَادِيَ الْقُرَى، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِلَى مَا تَدْعُو قَالَ: «إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ» قَالَ: فَهَذَا الْمَالُ هَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ فَقَالَ: «خُمُسٌ لِلَّهِ وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ لِهَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَصْحَابَهُ - وَإِنِ انْتُزِعَ مِنْ جَنْبِكَ سَهْمٌ، فَلَسْتَ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ»مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ کے محاصرے میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہا: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”اللہ وحدہ لا شریک کی طرف۔“ اس نے پوچھا: ”یہ مال کس کا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”خمس اللہ کا ہے اور چار پانچویں حصہ میرے اصحاب کے لیے ہے، اور اگر تمہارا کوئی حصہ تم سے چھین لیا جائے تو تم دوسروں پر کوئی فوقیت نہیں رکھتے۔“
وضاحت:
ابن شقیق نے روایت ایک مجہول رجل ("رجل من بلقين") سے لی ہے، اور وہ "رجل عن رجل" یعنی دو مجہول واسطے موجود ہیں۔ ➔ یعنی سند میں دو مجہول راوی موجود ہیں۔
مفرد سند میں ضعف تھا (بسبب مجہولین)۔ لیکن مجموع طرق کی بنیاد پر یہ حدیث صحیح ہے۔ جیساکہ علامہ ابن رجب نے "علل الحديث" (3/351) میں بھی اس کو "أصحّ" کہا
مفرد سند میں ضعف تھا (بسبب مجہولین)۔ لیکن مجموع طرق کی بنیاد پر یہ حدیث صحیح ہے۔ جیساکہ علامہ ابن رجب نے "علل الحديث" (3/351) میں بھی اس کو "أصحّ" کہا