حدیث نمبر: 3853
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي» حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلَامٌ قَدْ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: «آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ» فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَيْهِ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَرْكَبَ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ» ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بِمِثْلِ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ»
مظاہر امیر خان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے لڑکوں میں سے میرے لیے کوئی ایسا لڑکا تلاش کرو جو میری خدمت کرے، جب آپ خیبر کے لیے نکلے۔“ چنانچہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے، اور میں اس وقت قریب البلوغ تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا جب آپ کہیں اترتے۔ میں اکثر سنتا کہ آپ یہ دعا کرتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے غم و فکر، عاجزی اور سستی، بخل اور بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے دباؤ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ جب ہم خیبر پہنچے تو اللہ نے قلعہ فتح کرایا، پھر صفیہ بنت حیی بن اخطب کا حسن ذکر کیا گیا، اور ان کے شوہر قتل ہو چکے تھے، اور وہ نئی نویلی دلہن تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب کر لیا۔ پھر آپ ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم صہباء کے مقام پر پہنچے۔ وہاں صفیہ رضی اللہ عنہا نے (عدت) پوری کی اور آپ نے ان سے نکاح فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ایک چھوٹے دسترخوان پر کھجور اور گھی کا حلوہ بنایا، اور فرمایا: ”جو آس پاس ہیں ان کو بلا لو۔“ تو یہی صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ولیمہ تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے چادر سے پردہ کرتے تھے اور خود بیٹھ کر اونٹ کے پاس اپنا گھٹنا رکھتے، اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر اونٹ پر سوار ہوتیں۔ پھر جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے اور احد پہاڑ نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر جب مدینہ کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”بے شک میں مدینہ کے دو کالے پتھریلے میدانوں (لابتین) کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں، جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان کے صاع (پیمانہ) اور مد (پیمانہ) میں برکت عطا فرما۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3853
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2823، 2893، 5425، 6363، 6367، 6369، 6371، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1365، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1009، 4725، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5464، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1540، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3484، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2676،وأحمد فى «مسنده» برقم: 12296، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 129»