حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَى مَدِينَةِ مَقْنَا - قَالَ سَعِيدٌ: مَقْنَا هِيَ مَدْيَنُ - فَأَصَابَ مِنْهُمْ سَبَايَا مِنْهُمْ ضَيْمَرٌ مَوْلَى عَلِيٍّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعِهِمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، وَهُمْ يَبْكُونَ فَقَالَ لَهُمْ: «مِمَّ يَبْكُونَ؟» قَالُوا: فَرَّقْنَا بَيْنَهُمْ وَهُمْ إِخْوَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ , بِيعُوهُمْ جَمِيعًا»
مظاہر امیر خان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ مقنا (مدین) کی طرف بھیجا، وہاں سے کچھ قیدی لائے گئے، ان میں سے ضیمر بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کو بیچنے کا حکم دیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ قیدی رو رہے ہیں کیونکہ ان کو آپس میں جدا کر دیا گیا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”ان کو الگ نہ کرو، بلکہ انہیں اکٹھے بیچو۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3838
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف مرسل
تخریج حدیث «إسناده ضعيف مرسل، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
محمد بن إسحاق (مشہور سیرت نگار) جب "عن" کے ساتھ روایت کرتے ہیں، تو تدلیس کا خدشہ رہتا ہے۔ اس روایت میں بھی "عن عبد الله بن الحسن" کہا ہے، یعنی بلا تصریح سماع۔ اسی وجہ سے سند میں "احتمال ضعف" ہے۔
فاطمة بنت الحسين: تابعیہ، ثقہ، جلیلہ۔ فاطمة بنت الحسين رحمہا اللہ تابعیہ ہیں، یعنی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، نہ ان سے ملاقات ثابت ہے۔