سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الرُّءُوسِ باب: جنگ میں دشمن کے کٹے ہوئے سروں کو اٹھا کر لانے سے متعلق جو کچھ وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 3827
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ (1)، حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: جِئْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَوَّلِ فَتْحٍ مِنَ الشَّامِ بِرُؤُوسٍ، فَقَالَ: « مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ شَيْئًا » وَقَالَ: « مَنْ أَعْطَاكُمُ الْجِزْيَةَ فَاقْبَلُوهَا مِنْهُ، وَمَنْ قَاتَلَكُمْ فَقَاتِلُوهُ، فَلَنْ تُؤْتَوُا الْجِزْيَةَ مِنْ وَرَاءِ الدَّرْبِ آخِرَ مَا عَلَيْكُمْ » .مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں شام کی پہلی فتح میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ کٹے ہوئے سر لایا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا کوئی فائدہ نہیں، جس نے جزیہ دیا اسے قبول کرو، جس نے قتال کیا اس سے قتال کرو، لیکن سر نہ لاؤ۔“