حدیث نمبر: 3812
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ الشَّمَامِسَةُ مِنَ الْعَدُوِّ، وَيَقُولُ: " لَأَنْ أَقْتُلَ رَجُلًا مِنْهُمْ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْتُلَ سَبْعِينَ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ} [التوبة: 12] "
مظاہر امیر خان

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دشمن کے پادریوں کو قتل کرتے اور فرماتے: ”ان کا قتل مجھے دوسروں کے ستر قتل سے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: «فقاتلوا أئمة الكفر»۔“

وضاحت:
یہ اثر موقوف ہے: یعنی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنا قول اور عمل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت نہیں۔ آیت قرآن کی تفسیر کے ساتھ تطبیق کی گئی ہے۔
فائدہ: مضمون شریعت کے عام اصولات سے مؤید ہے: کفار کے سرکردہ اور رہنما افراد کا قتل زیادہ اہم ہے کیونکہ ان کے ختم ہونے سے کفار کی طاقت ٹوٹتی ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت { فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ } اسی کی تائید کرتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3812
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»