سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ باب: عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3806
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالشُّيُوخِ، وَعَقْرِ الْبَهِيمَةِ إِذَا قَامَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے اور اللہ کی راہ میں کھڑے جانوروں کو ذبح کرنے سے منعہ کروا۔“
وضاحت:
اسماعیل بن عیاش: ➔ شامی راویوں سے روایت میں ثقہ ہے۔
➔ اور یہاں وہ ابو بکر بن ابی مریم (شامی راوی) سے روایت کر رہے ہیں۔
➔ لہذا اس خاص مقام پر اسماعیل بن عیاش کی روایت معتبر ہے۔
ابو بکر بن ابی مریم (نافع بن زیاد الحمصي): ➔ ضعیف راوی ہے۔
➔ محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے: ابن معین: "لیس بشیء"
ابو حاتم: "ضعیف الحدیث"
نسائی: "متروک الحديث"
ابن حجر: "ضعیف"
ضمرہ بن حبیب: ➔ ثقہ تابعی ہیں۔
مسئلہ ارسال: ➔ ضمرہ بن حبیب تابعی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ روایت کر رہے ہیں (بغیر "سمعت" یا واسطہ کے ذکر کے)۔
➔ اس لیے یہ روایت اصولاً مرسل ہے۔
⚡ نتیجہ: ➔ دو بنیادی علتیں ہیں: ابو بکر بن ابی مریم ضعیف ہیں۔
مرسل روایت (تابعی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ نقل کرنا)۔
➔ ان دونوں علتوں کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
➔ اور یہاں وہ ابو بکر بن ابی مریم (شامی راوی) سے روایت کر رہے ہیں۔
➔ لہذا اس خاص مقام پر اسماعیل بن عیاش کی روایت معتبر ہے۔
ابو بکر بن ابی مریم (نافع بن زیاد الحمصي): ➔ ضعیف راوی ہے۔
➔ محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے: ابن معین: "لیس بشیء"
ابو حاتم: "ضعیف الحدیث"
نسائی: "متروک الحديث"
ابن حجر: "ضعیف"
ضمرہ بن حبیب: ➔ ثقہ تابعی ہیں۔
مسئلہ ارسال: ➔ ضمرہ بن حبیب تابعی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ روایت کر رہے ہیں (بغیر "سمعت" یا واسطہ کے ذکر کے)۔
➔ اس لیے یہ روایت اصولاً مرسل ہے۔
⚡ نتیجہ: ➔ دو بنیادی علتیں ہیں: ابو بکر بن ابی مریم ضعیف ہیں۔
مرسل روایت (تابعی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ نقل کرنا)۔
➔ ان دونوں علتوں کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔