سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّفْقِ بِالْبَهَائِمِ فِي السَّيْرِ باب: سفر میں جانوروں پر نرمی برتنے کا بیان
حدیث نمبر: 3797
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، يَرْفَعُهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ، إِذَا رَكِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ فَأَنْزِلُوهَا مَنَازِلَهَا مِنَ الْأَرْضِ، فَإِنْ كَانَتِ الْأَرْضُ جَدْبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنِقْيِهَا، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ فِي الطُّرُقِ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالدَّوَابِّ»مظاہر امیر خان
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ مدد عطا کرتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا۔ جب تم ان گونگی جانوروں (سواریوں) پر سوار ہو، تو انہیں زمین پر ان کے اترنے کی مناسب جگہوں پر اتار دو۔ اور اگر زمین بنجر ہو (یعنی گھاس نہ ہو) تو انہیں ان کے جسم کے صاف حصے پر لے کر جلدی نکل جاؤ۔ اور تمہیں راستوں میں سونا نہیں چاہیے، کیونکہ راستے سانپوں اور درندوں کا ٹھکانا ہوتے ہیں۔“