سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تُجِيرُ عَلَى الْقَوْمِ باب: عورت کا کسی قوم کو پناہ دینا (یعنی امان دینا) جائز ہے، اس بارے میں بیان۔
حدیث نمبر: 3791
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ خَنَسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرَّيِّ، فَقَالَ: يُغِيرُ الْعَدُوُّ فَيَسْبِي أَهْلَ الذِّمَّةِ وَيَسُوقُ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ، فَتَطْلُبُهُمُ الْخَيْلُ، فَتُدْرِكُهُمْ، فَيَذْبَحُونَ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ، وَيَنْكِحُونَ نِسَاءَ أَهْلِ الذِّمَّةِ , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «الْمُسْلِمُ يَرِدُ عَلَى الْمُسْلِمِ، وَالْمُسْلِمُ يَرِدُ عَلَى أَهْلِ الْعَهْدِ، وَمَنْ نَكَحَ ذِمِّيًّا فَهُوَ زَانٍ»مظاہر امیر خان
ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ دشمن حملہ کرتا ہے، ذمیوں کی عورتیں قید کر کے لے جاتا ہے، پھر بعض مسلمان ان عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مسلمان ذمی پر داخل نہیں ہو سکتا، اور جو ذمی عورت سے نکاح کرے وہ زنا کرنے والا ہے۔“