سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تُجِيرُ عَلَى الْقَوْمِ باب: عورت کا کسی قوم کو پناہ دینا (یعنی امان دینا) جائز ہے، اس بارے میں بیان۔
حدیث نمبر: 3789
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَتْ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَتْ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجَرْتُ أَحْمَائِي، وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّ ابْنَ أُمِّي أَرَادَ قَتْلَهُمْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ، إِنَّمَا يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ»، ثُمَّ جَاءَهَا فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا، ثُمَّ تَعَطَّفَ بِثَوْبِهِ، وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍمظاہر امیر خان
فتح مکہ کے دن سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: ”یا رسول اللہ، میں نے اپنے رشتہ داروں کو امان دی ہے، اور دروازہ بند کر دیا ہے، اور میرے بھائی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے بھی جسے تم نے امان دی امان دی۔ مسلمانوں میں سے ادنیٰ بھی امان دے تو قبول ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، وضو فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں۔