سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تُجِيرُ عَلَى الْقَوْمِ باب: عورت کا کسی قوم کو پناہ دینا (یعنی امان دینا) جائز ہے، اس بارے میں بیان۔
حدیث نمبر: 3787
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا أَجَارَتْ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ يَوْمَ فَتَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ هَانِئٍ؟ لَأَقْتُلَنَّهُمَا قَالَتْ: فَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَابْنَتُهُ فَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَخَذَ الثَّوْبَ فَالْتَحَفَهُ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتِ الضُّحَى، ثُمَّ قَالَ: " مَا لَكِ يَا أُمَّ هَانِئٍ؟ قُلْتُ: إِنِّي أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَجَاءَ عَلِيٌّ يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ، وَأَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ»مظاہر امیر خان
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن اپنے دو رشتہ داروں کو امان دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں انہیں قتل کروں گا۔“ میں نے ان پر دروازہ بند کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر رہے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کر رہی تھیں۔ غسل کے بعد آپ نے کپڑا لپیٹا، آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور فرمایا: ”اے ام ہانی! تم نے جسے امان دی، ہم نے بھی اسے امان دی۔“