سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ الْإِشَارَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ باب: مشرکین کی طرف اشارہ کرنے اور ان سے کیے گئے عہد کو نبھانے کے بارے میں بیان۔
حدیث نمبر: 3783
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، رَجُلٌ أَسَرَتْهُ الدَّيْلَمُ، فَأَخَذُوا عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ مِنَ الْمَالِ بِكَذَا وَكَذَا، وَإِلَّا رَجَعَ إِلَيْهِمْ , فَأَرْسَلُوهُ، فَلَمْ يَجِدْ , قَالَ: «يَفِي لَهُمْ بِالْعَهْدِ» قَالَ: إِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ، فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَفِيَ لَهُمْ بِالْعَهْدِمظاہر امیر خان
محمد بن سوقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہا: ”اے ابو محمد! ایک شخص کو دیلم نے قید کیا، اور اس سے مال لانے کا وعدہ لیا، ورنہ واپس آنا ہوگا۔“ اسے چھوڑا گیا، لیکن مال نہ پایا۔ عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اسے وعدہ پورا کرنا ہوگا۔“ اس نے کہا: ”وہ مشرک ہیں۔“ عطا نے پھر بھی وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا۔