حدیث نمبر: 3776
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: أَتَأَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ لِهِلَالِ رَمَضَانَ مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ: «أَنَّ الْأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا، فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ، وَإِذَا حَاصَرْتُمْ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكُمْ عَلَى أَنْ تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا حُكْمُ اللَّهِ فِيهِمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ احْكُمُوا فِيهِمْ مَا شِئْتُمْ، وَإِذَا قُلْتُمْ لَا بَأْسَ أَوْ لَا تَدْهَلْ أَوْ مَتْرَسْ فَقَدْ آمَنْتُمُوهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ»
مظاہر امیر خان

سیدنا ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط خانقین میں رمضان کے چاند کے بارے میں آیا، کچھ روزے سے تھے اور کچھ افطار کیے ہوئے، لیکن کسی نے دوسرے پر اعتراض نہ کیا۔ خط میں تھا: ”جب دن میں چاند دیکھو تو روزہ نہ توڑو جب تک دو گواہ نہ دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا تھا۔ اور جب کسی قلعہ والوں سے محاصرہ کے وقت کہا جائے کہ انہیں اللہ کے حکم پر اتارو، تو انہیں اپنے فیصلے پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے اللہ کا ان پر کیا حکم ہے۔ اور اگر تم کہو «لا بأس» یا «لا تدخل» یا «مطرس» تو یہ امان ہے، کیونکہ اللہ زبانوں کو جانتا ہے۔“

وضاحت:
سند ضعیف (الأعمش کی تدلیس کی وجہ سے "عن" کے ساتھ روایت)۔ مضمون صحیح بالمعنی (دیگر صحیح احادیث سے ثابت)
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3776
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2599، 2600، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18251، 18252، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9429، 9431، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34085، 34089»