سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَنْ أَسْلَمَ وَأَقَامَ بِأَرْضِهِ أَوْ خَرَجَ عَنْهَا باب: اُس شخص کا بیان جس نے اسلام قبول کیا اور یا تو اپنی زمین میں رہا یا وہاں سے نکل آیا۔
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فِي كِتَابِ مُعَاذٍ " مَنِ اسْتَخْمَرَ قَوْمًا - قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يَعْنِي مَنِ اسْتَعْبَدَ قَوْمًا أَوَّلُهُمْ أَحْرَارٌ وَجِيرَانٌ مُسْتَضْعَفُونَ - فَمَنْ قَصَرَ مِنْهُمْ فِي بَيْتِهِ حَتَّى دَخَلَ الْإِسْلَامَ فِي بَيْتِهِ فَهُوَ رَقِيقٌ، وَمَنْ كَانَ مُهْمَلًا يُؤَدِّي الْخَرَاجَ فَهُوَ حُرٌّ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ نَزَعَ إِلَى الْمُسْلِمَةِ مُسْلِمًا فَهُوَ حُرٌّ "مظاہر امیر خان
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے مکتوب میں ہے: ”جو قوم کسی کو غلام بنا لے حالانکہ وہ پہلے آزاد اور کمزور پڑوسی ہوں، پس جسے کسی نے اپنے گھر میں قید کر کے اسلام میں داخل کیا ہو وہ غلام ہے، اور جو آزادی کے ساتھ خراج دیتا رہا ہو وہ آزاد ہے۔ اور جو غلام اسلام میں مسلمانہ عورتوں کی طرف لپک آئے وہ آزاد ہو جاتا ہے۔“