سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَنْ أَسْلَمَ وَأَقَامَ بِأَرْضِهِ أَوْ خَرَجَ عَنْهَا باب: اُس شخص کا بیان جس نے اسلام قبول کیا اور یا تو اپنی زمین میں رہا یا وہاں سے نکل آیا۔
حدیث نمبر: 3770
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّ دِهْقَانًا أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِنْ أَقَمْتَ فِي أَرْضِكَ رَفَعْنَا الْجِزْيَةَ عَنْ رَأْسِكَ وَأَخَذْنَاهَا مِنْ أَرْضِكَ، وَإِنْ تَحَوَّلْتَ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِهَا»مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک دیہقان نے اسلام قبول کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تو اپنی زمین پر ٹھہرا تو تیرے سر سے جزیہ ہٹا دیں گے اور زمین سے خراج لیں گے، اور اگر زمین چھوڑ دی تو ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں۔“
وضاحت:
سند حسن (تدلیس کی وجہ سے معمولی ضعف، مگر قابل قبول)، مضمون صحیح و موافق اصول۔ اسی مفہوم کا اثر دیگر کتب میں بھی آیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جزیہ کا اصول یہی طے فرمایا تھا: کہ اسلام لانے والے پر جزیہ ساقط ہو جائے گا، مگر اس کی زمین سے خراج لیا جائے گا۔ کتاب الأموال لابن زنجویہ اور دیگر مصادر میں اس پالیسی کا تذکرہ ملتا ہے۔