حدیث نمبر: 3766
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ الْمُسْلِمُونَ السَّوَادَ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: اقْسِمْهُ بَيْنَنَا فَأَبَى، فَقَالُوا: إِنَّا افْتَتَحْنَاهَا عَنْوَةً قَالَ: «فَمَا لِمَنْ جَاءَ بَعْدَكُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَأَخَافُ أَنْ تَفَاسَدُوا بَيْنَكُمْ فِي الْمِيَاهِ، وَأَخَافُ أَنْ تَقْتَتِلُوا» فَأَقَرَّ أَهْلَ السَّوَادِ فِي أَرَضِيهِمْ، وَضَرَبَ عَلَى رُءُوسِهِمُ الضَّرَائِبَ - يَعْنِي الْجِزْيَةَ - وَعَلَى أَرْضِهِمُ الطَّسْقَ يَعْنِي الْخَرَاجَ، وَلَمْ يَقْسِمْهَا بَيْنَهُمْ
مظاہر امیر خان

ابراہیم تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب مسلمانوں نے سواد (عراق) فتح کیا تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے بعد آنے والے مسلمانوں کا کیا ہوگا؟ میں ڈرتا ہوں تم پانی پر جھگڑو گے اور آپس میں لڑو گے۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اہل سواد کو ان کی زمینوں پر برقرار رکھا اور ان پر جزیہ اور زمین پر خراج مقرر کیا، اور زمین تقسیم نہ کی۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3766
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»