سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْفُتُوحِ باب: فتوحات کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3765
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ: قَالَ كَانَتْ تُسْتَرُ صُلْحًا وَكَفَرَ أَهْلُهَا، فَغَزَاهُمُ الْمُهَاجِرُونَ، فَأَصَابَ الْمُسْلِمُونَ نِسَاءَهُمْ حَتَّى وَلَدْنَ لَهُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أَوْلَادِهِمْ مِنْهُمْ، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ سَمَّى مِنْهُمْ فَرَدُّوهُمْ عَلَى جِزْيَتِهِمْ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَادَتِهِمْ "مظاہر امیر خان
عطا خراسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: تستر صلح سے فتح ہوا تھا، پھر اہل تستر نے دوبارہ کفر اختیار کر لیا۔ مہاجرین نے ان پر حملہ کیا اور ان کی عورتوں سے نکاح کر لیا، یہاں تک کہ ان سے بچے بھی پیدا ہو گئے۔ میں نے ان کے بچے دیکھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جن کی پہچان ہو سکے انہیں واپس ان کے جزیہ پر کر دیا جائے اور ان کو ان کے آقاؤں سے جدا کر دیا جائے۔