سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْفُتُوحِ باب: فتوحات کے بارے میں بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " ارْتَدَّ سِتَّةُ نَفَرٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ يَوْمَ تُسْتَرَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلَنِي، فَقَالَ: مَا فَعَلَ النَّفَرُ؟ فَأَخَذْتُ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَ النَّفَرُ؟ قُلْتُ: قُتِلُوا , قَالَ: لَأَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهُمْ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَمَا سَبِيلُهُمْ إِلَّا الْقَتْلُ؟ قَالَ: كُنْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الدُّخُولَ مِنَ الْبَابِ الَّذِي خَرَجُوا مِنْهُ، فَإِنْ فَعَلُوا وَإِلَّا اسْتَوْدَعْتُهُمُ السِّجْنَ "سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تستر کے دن بنو بکر بن وائل کے چھ افراد مرتد ہو گئے۔ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ انہوں نے پوچھا: ”ان لوگوں کا کیا ہوا؟“ میں نے کسی اور بات کی طرف رخ موڑ دیا۔ پھر دوبارہ پوچھا۔ میں نے کہا: ”وہ قتل کر دیے گئے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں انہیں پا لیتا تو یہ مجھے سورج کے طلوع ہونے سے زیادہ محبوب ہوتا۔“ میں نے کہا: ”کیا ان کا قتل ضروری تھا؟“ فرمایا: ”میں انہیں واپس اسلام کی طرف بلاتا، اگر وہ قبول کرتے تو ٹھیک، ورنہ جیل میں ڈال دیتا۔“