سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ غُسْلِ الشَّهِيدِ وَمَا يُكَفَّنُ فِيهِ مِنَ الثِّيَابِ باب: شہید کو غسل دینے اور کفن کے کپڑوں کے بارے میں بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: " غَزَوْنَا خُرَاسَانَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّا لَمُحَاصِرُونَ حِصْنًا مِنْ حُصُونِ حَارِزْمَ، وَأَقَمْنَا سَنَتَيْنِ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَمَا نَصُوصُ الْفَرِيضَةَ، وَمَعَنَا مِعْضَدٌ الْعِجْلِيُّ وَاقِفٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ لَهُ أَبْيَضُ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ أَثَرَ الدَّمِ فِي هَذَا الْقَبَاءِ، فَمَا كَانَتْ مَقَالَتُهُ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ رُمِينَا بِالْمَنْجَنِيقِ مِنَ الْحِصْنِ، فَانْكَسَرَ مِنْهُ ثَلَاثُ فِرَقٍ، فَأَصَابَتْهُ فِرْقَةٌ مِنْهُ، فَجَعَلَ يَمَسُّهَا وَيَقُولُ: إِنَّهَا لَصَغِيرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيَجْعَلُ فِي الصَّغِيرَةِ خَيْرًا كَثِيرًا، فَانْصَرَفْنَا بِهِ، فَمَاتَ " فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَلْبَسُ ذَلِكَ الْقَبَاءَ بِالْكُوفَةِ، وَقَدْ غَسَلَ عَنْهُ أَثَرَ الدَّمِ، وَقَدْ بَقِيَ أَثَرُهُ، وَيَقُولُ: «إِنَّهُ لَيُحَبِّبُ إِلَيَّ لَبُوسَ هَذَا الْقَبَاءِ تَذَكُّرِي دَمَ مِعْضَدٍ فِيهِ»سیدنا علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے خراسان میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جہاد کیا، ہم حارزم کے ایک قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، دو سال تک ہم نے قصر (قصر نماز) کے ساتھ دو رکعتیں ادا کیں اور فرض میں کوئی کمی نہیں کی۔ ہمارے ساتھ معضد عجلی بھی تھا جو ایک سفید قباء پہنے ہوئے کھڑا تھا، اس نے کہا: ”اس قباء پر خون کا نشان کتنا اچھا لگے گا۔“ اتنا کہنا تھا کہ قلعے سے منجنیق سے تین پتھر پھینکے گئے، ایک اس کو آ لگا۔ اس نے زخم پر ہاتھ پھیرا اور کہا: ”یہ تو چھوٹا ہے، اللہ چھوٹی چیز میں بھی خیر پیدا کر دیتا ہے۔“ ہم اسے اٹھا کر لائے اور وہ فوت ہو گیا۔ علقمہ کوفہ میں اس قباء کو پہنا کرتے تھے جس میں خون کا نشان دھو کر بھی باقی رہ گیا تھا، اور کہتے تھے: ”مجھے یہ قباء پہنے رہنا اس لیے پسند ہے کہ اس سے معضد کا خون یاد آتا ہے۔“