حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ، قَالَ: كَانَ يَقُصُّ، وَكَانَ يُصَدِّقُ قَوْلُهُ فِعْلَهُ، وَكَانَ يَقُولُ: «السُّيُوفُ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ» وَكَانَ يَقُولُ: " إِذَا الْتَقَى الصَّفَّانِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ نَزَلْنَ الْحُورُ الْعِينُ فَاطَّلَعْنَ، فَإِذَا أَقْبَلَ الرَّجُلُ قُلْنَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، اللَّهُمَّ انْصُرْهُ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُ، فَإِذَا أَدْبَرَ احْتَجَبْنَ مِنْهُ قُلْنَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَإِذَا قُتِلَ غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَخْرُجُ مِنْ دَمِهِ كُلُّ ذَنْبٍ لَهُ، وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ تَمْسَحَانِ عَنْ وَجْهِهِ الْغُبَارَ، تَقُولَانِ: قَدْ أَنَى لَكَ، وَيَقُولُ: قَدْ أَنَى لَكُمَا "
مظاہر امیر خان

سیدنا یزید بن شجرہ رحمہ اللہ بیان کرتے تھے اور ان کا قول ان کے عمل کی تصدیق کرتا تھا، وہ کہتے تھے: ”تلواریں جنت کی کنجیاں ہیں۔“ اور کہتے تھے: ”جب اللہ کی راہ میں دو صفیں آمنے سامنے ہوتی ہیں اور نماز قائم کی جاتی ہے تو حور عین آسمان سے جھانکتی ہیں۔ جب کوئی مرد آگے بڑھتا ہے تو وہ کہتی ہیں: ’’اے اللہ اسے ثابت قدم رکھ، اے اللہ اس کی مدد فرما، اے اللہ اس کی نصرت کر۔‘‘ اور جب وہ پیچھے ہٹتا ہے تو وہ حوریں اس سے چھپ جاتی ہیں اور کہتی ہیں: ’’اے اللہ اسے بخش دے۔‘‘ اور جب وہ قتل ہو جاتا ہے تو اس کے خون کی پہلی بوند کے ساتھ اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دو حوریں اس پر نازل ہوتی ہیں اور اس کے چہرے سے گرد جھاڑتی ہیں اور کہتی ہیں: ’’اب تیرا وقت آ گیا ہے۔‘‘ وہ کہتا ہے: ’’اب تمہارا بھی وقت آ گیا ہے۔‘‘“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3744
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 6141، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2564، 2567، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 441، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9538، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19674، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19697، 26710، 36126، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 2203، 641، 642»
قال الدارقطني: ليس بالمحفوظ والصواب قول منصور والأعمش، الإصابة في تمييز الصحابة: (2 / 175)