حدیث نمبر: 3733
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَحَدِ الْمَوْطِنَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ أَوْ يَوْمَ أُحُدٍ {سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} [الحديد: 21] فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ قُسْحُمٍ قَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟» قَالَ: قُلْتُ: إِنْ دَخَلْتُهَا إِنَّ لِي فِيهَا سَعَةً، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ؟ قَالَ: «تَلْقَى هَذَا الْعَدُوَّ فَتَصْدُقَ اللَّهَ» فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، فَقَالَ:. . . . مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ "
مظاہر امیر خان

سیدنا ابو بکر بن حفص بن عمر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر یا احد کے دن «سابقوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها كعرض السماء والأرض» [الحدید: 21] تلاوت فرمائی۔ ایک انصاری، ابن قسم، نے کہا: ”بخ بخ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بخ بخ کہہ کر کیا چاہا؟“ اس نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں جنت میں داخل ہوا تو مجھے اس میں کشادگی ملے گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن کا مقابلہ کرو اور اللہ کے ساتھ سچائی دکھاؤ۔“ اس نے ہاتھ میں موجود کھجوریں پھینک دیں اور کہا: ”دنیا کا کھانا چھوڑ کر۔“ پھر لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3733
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2556، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19691»
مضموناً یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس کی تائید صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود دوسرے واقعات سے ہو رہی ہے (مثلاً عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ کا واقعہ)