سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» کا بیان
حدیث نمبر: 373
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: يَصِلُ رَحِمَهُ، وَيَبَرُّ قَرَابَتَهُ، وَيُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، وَلَوْ أَمَرْتُهُ بِالْكَفَّارَةِ لَأَمَرْتُهُ أَنْ لَا يُتِمَّ عَلَى قَوْلِهِ .مظاہر امیر خان
عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ اپنے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے، اپنے اقرباء کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور لوگوں کے درمیان صلح کرائے، اور اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ اگر میں اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم دیتا تو گویا میں اسے اپنے قول پر قائم نہ رہنے کا حکم دیتا۔